مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری زنجانی کی ولادت 8 رمضان ۱۳۴۶ ھ مطابق 10 اسفند 1306 ش میں قم میں ہوئی۔ ان کے والد سید احمد شبیری زنجانی اپنے عہد کے علما میں سے تھے۔
انہوں نے 25 برس زنجان کے مدرسہ سید زنجان میں تحصیل و تدریس میں بسر کئے۔ 2 جمادی الثانی 1346 ھ سے انہوں نے قم میں قیام اختیار کیا۔ ان کا شمار شیخ عبد الکریم حائری کے قریبی افراد میں ہوتے تھے۔
درس و تدریس
انہوں نے 1359 یا 1360 ھ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حوزہ کے سطوح کے دورس کو انہوں نے تین یا چار سال میں مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ سید صدر الدین صدر کے درس میں شرکت کرنے لگے۔ اس درس میں شرکت کرنے والوں میں وہ سب سے کم عمر طالب علم تھے۔
انہوں نے آیت اللہ بروجردی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور کتاب الغصب، کتاب الاجارہ و کتاب الصلاۃ میں ان سے کسب فیض کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے 21 برس کی عمر سید محمد داماد کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور ان سے اصول فقہ کا ایک مکمل دورہ پڑھا۔ سید موسی صدر اور شہید بہشتی کی طرح آپ بھی سید محمد داماد کے تلامذہ میں سے تھے۔
نجف کا سفر
موسی شبیری زنجانی نے 1373 اور 1374 ھ میں دو بار حوزہ علمیہ نجف کا رخ کیا اور وہاں آیت اللہ سید عبد الہادی شیرازی آیت اللہ سید محسن حکیم کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور اسی طرح سے آیت اللہ العظمی خوئی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں بھی شرکت کی۔
درس خارج کی تدریس کا آغاز
آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری 1340 ش سے ہی مدرسہ حقانی قم کے اساتذہ میں سے تھے۔ انہوں نے فقہ میں کتاب الحج کے درس خارج کی تدریس کا سلسلہ 1388 میں اس وقت شروع کیا جب ان کے استاد آیت اللہ محقق داماد حیات تھے اور یہ سلسلہ درس 15 برس تک چلتا رہا۔ ان کا علم اصول کا درس خارج بھی مدتوں درس اصلی کے طور پر چلتا رہا لیکن وہ جاری نہیں رہ سکا۔ البتہ وہ اپنے نکات کو فقہ کے درس خارج کے ضمن میں بیان کر دیتے تھے۔
مرجعیت
آیت اللہ شبیری زنجانی کا شمار ان سات فقہا میں سے ہوتا ہے جن کا اعلان جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی طرف سے آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد 1373 ش میں کیا گیا اور انہیں جایز التقلید قرار دیا گیا تھا۔
علم رجال میں ان کا تبحر، روایات پر ان کی خاص توجہ اور حجیت خبر واحد کا قبول نہ کرنے کو ان کے مخصوص فقہی نظریات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آیت اللہ سید محسن حکیم و سید ابو القاسم خوئی کے آرا و نظریات پر خاص توجہ، انسداد باب علم کا نظریہ رکھنا، فقہا کے لئے امور حکومتی میں وسیع اختیارات نہ رکھنے کا قائل ہونا، ان کے دیگر فقہی نظریات کے مبنا میں سے تھے۔
تالیفات
آیت اللہ سید موسی شبیری نے کتابوں کی تالیف کے علاوہ بعض اہم شیعہ کتب کی تصحیح، تحقیق اور تعلیقہ کا کام بھی انجام دیا ہے۔ ان کی تحقیق میں رجال نجاشی، کتاب اشنائے حق و محمد بید آیادی کے افکار و سلوک پر تعلیقہ۔ ان کے مہم ترین آثار درج ذیل ہیں:
تحقیق رجال نجاشی: رجال نجاشی ان کی تحقیق کے ساتھ 1416 ھ میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے انتشارات کی طرف سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کی تحقیق رجال نجاشی کے 14 معتبر نسخوں سے استفادہ کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے۔
آشنائے حق پر تعلیقہ: آقا محمد بید آبادی کے آثار و احوال، آشنائے حق نامی فارسی کتاب میں علی صدرایی خوئی نے قلم بند کئے ہیں اور آیت اللہ شبیری زنجانی نے اس پر تعلیقات تحریر کئے ہیں۔ یہ کتاب 1391 ش میں انتشارات خویی کی جانب سے طبع ہوئی ہے۔ جبکہ اصل کتاب 1379 ش میں نشر نہاوندی نے شائع کی ہے۔
جرعہ ای از دریا: اس کتاب میں ان کے بعض غیر مطبوعہ و بعض محدود مطبوعہ آثار، طریقیات نامی فصل کے ہمراہ، جن میں ان کے گھر سے حرم حضرت معصومہ (ع) کے راستے میں بیان ہونے والی بعض اقوال شامل ہیں، شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی پہلی فصل میں فارسی کی 14 کتب، مقالات، انٹرویوز اور فارسی کتب پر تعلیقات شامل ہیں۔ اس کی دوسری فصل میں عربی کی آٹھ کتب ہیں جن میں سے زیادہ تر تعلیقات ہیں۔ اس کتاب کی آخری حصہ میں طریقیات ہیں جن میں علمی، تاریخی و اخلاقی نکات ذکر کئے گئے ہیں اور اس میں علما میں سے 40 شخصیات کی سوانح حیات اور ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور موسسہ کتاب شناسی شیعہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ یہ تین جلدی کتاب 1388 ش میں موسسہ کتاب شناسی شیعہ قم کی جانب سے فارسی زبان میں طبع ہوئی ہے۔
آپ کا تبصرہ